Showing posts with label Study. Show all posts
Showing posts with label Study. Show all posts

Sunday, December 27, 2020

The life of the Quaid-e-Azam at a glance

The life of the Quaid-e-Azam at a glance

Grandfather: Meghji

Grandfather: Punja Bhai

Father: Jinnah Punja

Mother: Mithi / Shirin Bai

Cast: Sheikh

Born: Sunday, December 24, 1876

Place of birth: Karachi (Kharadar)

Number of siblings: 4 sisters + 2 brothers (Muhammad Ali the eldest)

Aqeeqah: What happened at Panili Dargah at the age of 5 months?

Matriculation: 1892 Sindh Madrasa Laslam (at the age of 16)

Barrister: 1896 London (20 years old)

Issuance of Passport: 4 July 1936

Passport number: 400878

 married life

Born to the daughter of rich Persian parents

Mary was born on February 20, 1900

Acceptance of Islam: Thursday, April 18, 1918

(Rati converted to Islam and gave up her family and all her property for the sake of Jinnah)

Married: Friday, April 19, 1918

(From Rati Maryam to Maryam Jinnah)

Nikah Khan: Maulana Nizam Ahmad Naqshbandi

Marriage certificate: written in Persian language

Marriage Registrar: Maulana Hassan Najafi

Place of Marriage: South Court Mount Bombay

Stamp duty: Rs

Gift: Rs

Witness Maryam: Haji Sheikh Abu Al-Qasim Najafi

Witness Jinnah: Raja Muhammad Ali Khan

Ring for Maryam Jinnah: Raja Muhammad Ali Khan gave a diamond ring as a gift

Housemaid Jinnah: Wasan

Daughter born: August 14, 1919

Daughter's name: Dina Jinnah

Maryam Jinnah died: 20 February 1929 (due to cancer).

Burial: February 22, 1929

Cemetery: Aram Bagh, Bombay

Joined the Congress: 1906

Joined the Muslim League: 1913

Separation from Congress: 1920

The slogan of the Muslim League:

"If you are a Muslim, join the Muslim League"

From 1938, Muhammad Ali Jinnah became ill

First, Maulana Mazharuddin gave Jinnah the title of Quaid-e-Azam

The Pakistan Resolution was passed in 1940 in which the Quaid-e-Azam addressed for 1 hour and 40 minutes

After millions of sacrifices, as a result of the tireless efforts of Quaid-e-Azam and other leaders, Pakistan emerged on the world map on Friday, August 14, 1947.

Flag stitching: Amiruddin Qadwai

Assembly approval: August 11, 1947

First flag hoisting: August 14-13 at 12 midnight

Governor General: August 15, 1947

Oath taking: Chief Justice Lahore High Court

While studying the English translation of the Holy Quran, he used to read Surah Al-Fil frequently

Causes of the disease:

1- Do not eat on time

2- Excessive smoking

3- The frequency of the procession

Doctors:

1-Colonel Elahi Bakhsh

2- Dr. Riaz Ali Shah

3-Dr. SS Alam

Diagnosis: Pyloric acid

Height: 5 feet 10.5 inches

Weight: Only 70 pounds left

Halwa was very fond of it

Cigarette: Cigar + caravan

Quaid-e-Azam's last words:

Constitution .... I will complete it soon .... Refugees .... Possible .... Give them help .... Palestine ....

(Then he pointed to Fatima Jinnah and called her to him and said)

Fati .... goodbye .... La Allah Allah Muhammad Al Rasool Allah

Died: 11 September 1948 Saturday night 10:25 Karachi

Funeral: Sunday, September 12, 1948 at 2:30 p.m.

Funeral and burial: Old exhibition hall

Grave excavation: Joseph Aaron and companions

Funeral Prayer: Maulana Shabbir Ahmad Usmani

Total age: 71 years 8 months 4 days

He lived for 1 year and 27 days after becoming Pakistan

Funeral attendees: over 500,000

Pakistan is the only country in human history that came into being without the help of army, strengthened the nation without army and established Pakistan.

 Yes, if you are self-sufficient, self-sufficient, self-sufficient

It is also possible that you could not die

Reference book:

Leader of the Nation: Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah

the author:

Prof. Dr. MA Sufi


Tuesday, May 5, 2020

Poor man and robbery instructional story

" *میں تم سے اور بچوں سے بے پناہ محبت کرتا ہوں، جانتا ہوں تم لوگ سخت حالات میں ہو، فاقے کاٹ رہے ہو، مگر میں یہاں بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتا. بس اتنا کر سکتا ہوں کہ کھانا پینا چھوڑ دوں تاکہ خود کو تمہارے ساتھ تو محسوس کروں ۔۔۔*" *یہ وہ خط تھا جس نے سینٹرل جیل کراچی کی انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا. خط لکھنے والا قیدی بھوک ہڑتال کر چکا تھا۔* *انتظامیہ کوشش کے باوجود بھوک ہڑتال ختم نہ کرا سکی تو اعلیٰ حکام کو مطلع کیا، جس کے بعد اس معاملے کی انکوائری ایک نوجوان پولیس افسر کے پاس آ گئی ۔۔*۔
*یہ قصہ پولیس افسر نے سنایا ۔۔۔ پولیس افسر کے مطابق ۔۔۔* *میں نے خط پڑھا تو بے چین ہو گیا۔ فائل اپنے گھر لے گیا اور وہ خط اپنی اہلیہ کو دکھایا تو وہ رونے لگی۔* *میں نے اس قیدی کی فائل پڑھی، وہ قیدی ڈکیتی کے الزام میں سزا بھگت رہا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جن کے گھر میں ڈکیتی ماری تھی انھوں نے مقدمہ کیا اور نہ تھانے آئے، سب کچھ سرکاری مدعیت میں ہوا اور ملزم کو سزا ہو گئی۔* *میں اگلے ہی روز ملیر میں اس قیدی کے گھر چلا گیا۔ اس کی اہلیہ اور تین بچے ملیر کھوکھرا پار میں ایک کمرے کے ٹین کی چھت والے گھر میں رہتے تھے۔ صحن ایک کونے میں چولہا رکھ کے کچن اور دوسرے کونے میں چادر کے پیچھے بالٹی اور اینٹیں رکھ کے واش روم اور ٹوائلٹ بنایا گیا تھا۔* *میں نے قیدی کی اہلیہ سے تفصیلات پوچھیں تو کہنے لگی کہ وہ گدھا گاڑی چلاتا تھا۔* *کراچی کے خراب حالات کے دوران فائرنگ سے اس کا گدھا مر گیا۔ وہ کئی دن تک مزدوری ڈھونڈتا رہا مگر اسے کام نہ ملا۔ ادھر بچے بھوک سے بلک رہے تھے، محلے والے مدد کر رہے تھے مگر کب تک ۔۔۔* *جب زیادہ تنگ ہوئے تو میں نے اسے کہا کہ کہیں سے بھی راشن لے کر آؤ ورنہ میں بچوں کو مار دوں گی۔ وہ خاموشی سے چلا گیا اور پھر شام کو اطلاع آئی کہ ڈکیتی مارتے ہوئے اسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ ڈکیت نہیں ہے، اسے میں نے ڈاکو بنا دیا۔ خاتون روتے ہوئے بتا رہی تھی۔* *اس گھر کی حالت خاتون کے بیان کی گواہی دے رہی تھی، میں وہاں سے نکل کے اس گھر میں گیا جس میں ڈکیتی ماری گئی تھی۔ انھوں نے جب تفصیلات بتائیں تو میرے ہوش اڑ گئے۔* *انھوں نے بتایا کہ دوپہر کے وقت گھر میں خواتین تھیں، وہ شخص پستول کے ساتھ گھر میں داخل ہوا، اور خواتین کو ایک جانب جمع ہونے کا کہا۔ بزرگ خاتون خانہ نے کہا کہ کسی کو کچھ مت کہنا، زیور اور رقم اس الماری میں ہے، وہ لے لو۔ مگر اس نے کہا مجھے رقم نہیں چاہئے، میں بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا، اس لئے شور مت مچانا اور مجھے صرف یہ بتائیں کہ کچن کس طرف ہے، خاتونِ خانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے حیرانی اور پریشانی سے اسے کچن بتایا۔ وہ شخص کچن میں گیا، ہم سے ایک چادر لی اور کچن میں موجود راشن چادر میں جمع کر کے روانہ ہو گیا۔ جاتے ہوئے ہم سے معذرت بھی کر کے گیا۔* *خاتونِ خانہ نے کہا کہ ہم تو حیران رہ گئے تھے، اور خاموش ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک باہر شور ہوا۔ ہم نے پتا کیا تو معلوم ہوا کسی محلے والے نے مشکوک حالت میں چادر میں سامان سمیٹے اس گھر سے نکلتے دیکھا تو شور مچا دیا، جس پر محلے والوں نے اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ خاتون خانہ اور اس گھر کے مردوں کا کہنا تھا کہ طریقہ واردات اور صرف راشن چوری کرنے سے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شخص ضرورت مند ہے، اس لئے ہم نے اس شخص کے خلاف تھانے گئے اور نہ مقدمہ کرایا*۔ *میں نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بلایا تو اس نے بتایا کہ محلے والے پکڑ کے لائے تھے، اس نے اعتراف بھی کیا کہ ڈاکہ مارا ہے اور اس کے پاس سے جو پستول برآمد ہوا وہ نقلی تھا۔* *مقدمہ کرانے کوئی نہیں آیا تھا تو ہم نے سرکاری مدعیت میں مقدمہ عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے سزا دے دی۔* *میں نے انکوائری رپورٹ تیار کی، ساتھ ہی اس گھرانے کے افراد کے بیان لگائے جن کے گھر ڈکیتی ہوئی تھی، اور تفصیل اعلیٰ حکام کو بھیج دی۔ مقدمہ عدالت میں دوبارہ چلا، اس شخص کو چند دن میں ہی ضمانت اور کچھ عرصے بعد رہائی مل گئی۔* *وہ شخص رہا ہوا تو میں نے اسے کہا کہ آئندہ ایسی حرکت مت کرنا، اور اسے کچھ رقم دینے کی کوشش کی تو اس نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ مجھے کہیں مزدوری دلوا دیں۔* *اب وہ شخص اپنے گھر کی قریبی پولیس چیک پوسٹ پر سویلین ملازم ہے۔* *یہ ہڑتالیں اور لاک ڈاؤن کتنے گھر اجاڑتے ہیں، کتنے گھروں میں فاقے کراتے ہیں اور کتنے ڈاکو پیدا کرتے ہیں؟ اس کا اندازہ بےحس حکمران لگا سکتے ہیں اور نہ ہمارا عدالتی نظام۔“* Dua Lateef PAKISTAN LAWYERS MOVEMENT

Tuesday, February 11, 2020

Urdu novelist Abdullah Hussein

‫جنازے میں صرف پچاس ساٹھ لوگ تھے، سلام پھیرا گیا، مولوی صاحب نے دعا کرائی اور لوگوں نے تعزیت کے لیے لواحقین کی تلاش میں دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیا، ‬

‫مرحوم کا ایک ہی بیٹا تھا، وہ لندن میں تھا، وہ وقت پر پاکستان نہ پہنچ سکا چنانچہ وہاں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جس سے پرسا کیا جا سکتا، لوگوں نے چند لمحے انتظار کیا اور پھر گرمی کی وجہ سے ایک ایک کر کے چھٹنے لگے، ‬

‫تدفین کا وقت آیا تو قبرستان میں صرف چھ لوگ تھے، مستنصر حسین تارڑ، یہ مرحوم کے عزیز ترین دوست تھے۔ یہ وہاں موجود تھے، دوسرا شخص مرحوم کا پبلشر تھا، یہ پچھلی دو دہائیوں سے ان کی کتابیں چھاپ رہا تھا لہٰذا یہ بھی وہاں رک گیا اور باقی چار لوگ گھریلو ملازم تھے، یہ آخری وقت تک صاحب کا ساتھ دینا چاہتے تھے، ‬

‫میت اٹھائی گئی، قبر میں رکھی گئی، مٹی ڈالی گئی، تازہ مٹی میں درخت کی سبز شاخ بھی ٹھونک دی گئی، ‬

‫گورکن نے قبر پر چھڑکاؤ کیا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے، تدفین میں مصروف لوگوں نے بھی ہاتھ جھاڑے اور دعا میں شامل ہو گئے اور یوں ملک کے سب سے بڑے ادیب، بڑے ناول نگار کا سفر حیات اختتام پذیر ہو گیا، ایک کہانی تھی جو4 جولائی 2015ء کو ڈی ایچ اے لاہور کے قبرستان میں دفن ہو گئی۔‬

‫یہ کون تھا؟ یہ " عبداللہ حسین " تھے، ‬

‫وہ عبداللہ حسین جن کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں، پاکستان نے 68 سالوں میں بین الاقوامی سطح کا صرف ایک ناول نگار پیدا کیا اور وہ ناول نگار عبداللہ حسین تھے، ‬

‫عبداللہ حسین 14 اگست 1931ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے، اصل نام محمد خان تھا، سولہ سال کی عمر میں ہندوستان کی تقسیم دیکھی، قیام پاکستان کے دوران انسان کا ایسا بھیانک چہرہ سامنے آیا کہ مذہب، انسانیت اور اخلاقیات تینوں سے اعتبار اٹھ گیا اور وہ مذہب اور انسانیت دونوں کے باغی ہو گئے۔‬

‫تقسیم کے واقعات نے عبداللہ حسین کے ذہن پر خوفناک اثرات چھوڑے، وہ 1952ء میں داؤدخیل کی سیمنٹ فیکٹری میں بطور انجینئر کام کرتے تھے، انھوں نے وہاں قلم اٹھایا اور ’’اداس نسلوں‘‘ کے نام سے اردو زبان کا ماسٹر پیس تخلیق کر دیا، ‬

‫یہ ناول محض ایک ناول نہیں تھا، یہ ان نسلوں کا نوحہ تھا جنھوں نے تقسیم ہند کے دوران پرورش پائی اور یہ کندھوں پر اداسی کی صلیب اٹھا کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں، یہ ناول ایک تہلکہ تھا، یہ تہلکہ پاکستان میں بھی چھپا اور سرحد پار ہندوستان میں بھی۔‬

‫’’اداس نسلیں‘‘ آج تک اردو کا شاندار ترین ناول ہے، یہ ناول عبداللہ حسین نے 32 سال کی عمر میں لکھا، صدر پاکستان ایوب خان نے انھیں 34 سا کی عمر میں ادب کا سب سے بڑا اعزاز ’’آدم جی ایوارڈ‘‘ دیا ‬

‫یہ برطانیہ شفٹ ہو گئے، یہ 40 سال برطانیہ رہے، برطانیہ میں قیام کے دوران مزید دو ناول لکھے، دو ناولٹ بھی تخلیق کیے اوردرجنوں افسانے بھی لکھے، عبداللہ حسین نے ایک ناول انگریزی زبان میں بھی لکھا، یہ سارے افسانے، یہ سارے ناولٹ اور یہ سارے ناول ماسٹر پیس ہیں۔‬
‫یہ خون کے سرطان میں مبتلا تھے، بیماری سے لڑتے رہے یہاں تک کہ 4 جولائی 2015ء کو 84 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال فرما گئے، ‬

‫بیگم کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے، وہ برطانیہ میں ہی رہ گئیں، ‬

‫بیٹا لندن میں رہتا تھا، وہ جنازے پر نہ پہنچ سکا، عطاء الحق قاسمی نے احباب کو اطلاع دی، یوں پچاس ساٹھ لوگ ملک کے سب سے بڑے ادیب کی آخری رسومات میں شریک ہو گئے، یہ المیہ عبداللہ حسین کی موت کے المیے سے بھی بڑا المیہ تھا۔‬

‫ہم لوگ اس المیے سے دو سبق سیکھ سکتے ہیں، ایک سبق ہم عام لوگوں کے لیے ہے اور دوسرا ریاست کے لیے۔ ہم لوگ بہت بدقسمت ہیں، ہم کام، شہرت اور دولت کی دھن میں خاندان کو ہمیشہ پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، ہم کیریئر بناتے رہتے ہیں، شہرت سمیٹتے رہتے ہیں اور اس دوڑ کی دھوپ ہمارے خاندان کی موم کو پگھلاتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب زندگی کی شام ہوتی ہے تو ہمارے طاقوں میں پگھلی ہوئی موم کی چند یادوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا، ‬

‫میں  بے شمار ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنے بچوں کے بچپن کو اس لیے انجوائے نہ کر سکے کہ یہ بچوں کے اعلیٰ مستقبل کے لیے سرمایہ جمع کر رہے تھے۔‬

‫بچے بڑے ہوئے تو انھوں نے اپنی پوری جمع پونجی لگا کر بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر بھجوا دیا، بچے جہاں گئے وہ وہاں سے واپس نہ آئے اور یوں ان کے جنازے ملازمین ہی نے پڑھے اور ملازمین ہی نے انھیں دفن کیا، ‬

‫میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو پوری زندگی شہرت جمع کرتے کرتے مر گئے اور ان کے جنازے میں ان کا کوئی عزیز، رشتے دار اور دوست تھا اور نہ ہی وہ لوگ جو زندگی میں ان کے ہاتھ چومتے تھے اور اپنی ہتھیلیوں پر ان کے آٹو گراف لیتے تھے۔‬

‫میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے جو امن، انصاف، خوش حالی اور مطمئن زندگی کے لیے خاندان کو ملک سے باہر لے گئے، آخر میں خود واپس آ گئے، خاندان وہیں رہ گیا اور جب انتقال ہوا تو بچوں کو چھٹی ملی اور نہ ہی فلائیٹ ‬

‫اور میں ایسے لوگوں سے بھی واقف ہوں جو زندگی میں غرور کا غ ہوتے تھے، جنھوں نے زندگی اقتدار کا الف اور شہرت کی ش بن کر گزاری لیکن جب یہ مرے تو دس دس سال تک کوئی ان کی قبر پر فاتحہ کے لیے نہ آیا، کسی نے ان کے سرہانے دیا تک نہ جلایا ‬

‫چنانچہ پہلا سبق یہ ہے، آپ اپنی اولاد، اپنے خاندن کو کبھی تعلیم، روزگار، کام، شہرت، اقتدار اور سیکیورٹی کے نام پر اپنے آپ سے اتنا دور نہ کریں کہ یہ آپ کے جنازے میں شریک نہ ہو سکیں اور آپ کی قبریں دس دس سال تک ان کے قدموں کو ترستی رہیں۔،آپ کو اپنے فکری زوال اور مغربی دنیا کے ذہنی عروج کی وجوہات معلوم ہو جائیں گی.‬
_______
جاوید چوھدری صاحب کی حقیقت بھری تحریر
محترم دوست عثمان فخری کی ٹائم لائن سے کاپی شدہ‫۔‬
محمد بشیر  چوھدری
۹ فروری ۲۰۲۰

Wednesday, August 7, 2019

residing wage consistent and child poverty down, however greater work still vital, document says


Edmonton's living wage is $sixteen.fifty one, newborn poverty is most focused in the metropolis's northeast, and forty two per cent of Edmontonians dwelling in poverty determine as a seen minority.
These are a number of findings from a new document on poverty released by way of city non-income agencies Tuesday. The document, co-authored through the Edmonton Social Planning Council and EndPovertyEdmonton, aims to shed a light-weight on the one-in-10 Edmontonians dwelling in poverty.
among the many document's findings were that rate reductions in infant poverty have largely come from families with two folks.
"when we peeked under the hood, it was the variety of aspect the place we discovered, sure, there have been some gains, in particular amongst couple households," spoke of Edmonton Social Planning Council research co-ordinator Sandra Ngo.
"youngsters, when it involves infants living with single-father or mother households, we in reality haven't considered the same changes or gains. basically, in lots of places, it's definitely gotten worse."
information Canada facts discovered that child poverty prices dropped enormously between 2015 and 2017, from 10 per cent of kids living in poverty to five per cent. whereas Ngo is satisfied that growth has been made, she says that low-earnings advantages programs deserve to be examined to make sure they're assisting those in want of support.
child poverty exists in all corners of the city, however's tremendously concentrated to a few areas, including the metropolis's northeast. In Rundle Heights, the neighbourhood with the optimum costs of newborn poverty, one in two youngsters are living in low revenue.
in keeping with Ngo, racism performs a large role in perpetuating poverty in the province. The file found that eleven per cent of Edmontonians residing in poverty are Indigenous and 42 per cent identify as a visible minority.
"(Racism) is doing a whole lot to bar families and people from alternatives, from gainful financial employment, from meaningful social participation of their neighborhood," Ngo said. "these are components that really perpetuate poverty. That's what results in intergenerational poverty cycles."
The file also found that the living wage in Edmonton, which is calculated because the wage needed for a two adults working full-time to help a household, is $16.fifty one. That's down from $17.36 when the number turned into first calculated in 2015 and up marginally from closing 12 months's residing wage of $16.48 — a rise at under the rate of inflation.
Ngo credit social programs with protecting the living wage low and giving low-salary families a security net. She issues that if programs, like the $25-a-day infant care software piloted beneath the NDP executive, are discontinued, the dwelling wage will rise in future years..
"If that pauses, I suppose we'll see the merits birth to decline or disappear, which is in reality worrisome."
the whole file can also be study on-line.