Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Sunday, January 10, 2021

Answer to Pakistani Maulvis who talk against Christmas in urdu

 آج کل مولوی حضرات کرسمس پر کافی زیادہ گفتگو کر رہے ہیں۔ اور مسلم لوگوں میں، انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  کہ کرسمس کی مبارک دینا، لینا گناہ ہے۔ کرسمس حضرت عیسی علیہ السلام کی، ولادت کی خوشی میں، مسیحی مناتے ہیں۔ اور قیامت تک منایا جاتا رہے گا۔

اگر آپ حضرت عیسی علیہ السلام کی خوشی کو منانا گناہ کہا رہے ہیں تو جناب آپ اُن کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ اُن کی تاریخ پیدایش ایک مختلف مضمون ہے۔ اور اس پر کافی زیادہ ویڈیوز موجود ہیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ مسلمان تب تک مسلمان ہی نہیں جب تک وہ تمام نبیوں کا اقرار نہ کر لے اُن کو مانے نہ۔ اس کے برعکس ، میں یہ کہوں گا کہ تمام مسلمان اس دن کو منائیں۔ کیونکہ ہم ایک ایسے نبی کی پیداش کے دن کو مناتے ہیں، جن کے وسیلے سے، اور آنے سے قیامت کا سسٹم شروع ہونا ہے۔ 

اور جب حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو کیسے وہ اپنے لوگوں کو بھول سکتے ہیں وہ سب سے پہلے ہمیں آواز دیں گے اور ان کے امتی اگلی صفوں میں ہوں گے۔

یہاں میں پراکسی وار کے بارے میں تھوڑا سا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ پراکسی وار میں لوگ کو ایک دوسرے کے خلاف اکساتے ہیں ، تاکہ ملک میں بدامنی پیدا ہو اور لوگ ایک دوسرے کے خلاف ہو جایں اور مارنے مارنیں پراُتر آییں، تاکہ ملک ترقی نہ کرے۔ کلبھوشن یادیو کی طرح ، اس نے بھی مسلمان ہونے کا ڈھونگ رچایا، اور اپنے مشن کے لئے مسجد اور پاکستان کے معصوم لوگ کو استعمال کیا تھا۔ ایسے لوگ جو مذہب کا سہارا لے کر نفرتوں کو بھڑکاتے ہیں۔ ان کو فورا چیک کریں اور اینٹی ٹیررازم فورس کو بتائیں۔

کیونکہ مذہب ایک ایسا عنوان ہے جس پر جنگ آسانی سے پھوٹ پڑتی ہے اور اس وقت سب سے بڑا دشمن ہمارا ہندوستان ہے۔ اور آپ کا کیا خیال ہے؟ کہ ہندوستان یہ ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام عاشق رسول ہیں اور وہ اس کے بارے میں نہیں سوچتے ہیں۔ لیکن پاکستانیوں ہمیں سوچنا ہے کہ کون فساد برپا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اُس کے بارے میں روپوٹ کرنی ہے۔ 

جیسے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا قتل بند نہیں ہو رہا ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارا دشمن دنیا کو بتانے کی کوشش کر رہا ہے اور ایران کو یہ احساس کروا رہا ہے کہ شیعہ پاکستان میں محفوظ نہیں ہیں۔ اور ایران کو پاکستان کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

کچھ دن پہلے میرے دوست نے میرے ساتھ سورۃ الرحمن شیئر کی اور جب میں اس کا ترجمہ پڑھ رہا تھا تو وہ تمام کا تمام ایسا لگا جیسے میں بائبل مقدس میں سے زبور پڑھا رہا ہوں۔ جناب ہمارے روحانی باپ ایک ہی ہے اور ہماری منزل ایک ہی ہے۔ ہمیں پڑھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس لیے یسوع مسیح نے فرمایا تھا کہ تم سچائی کو جانو گے تو سچائی تم کو آزاد کرے گی۔  خدا تمام لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کو بہتر طور پر کام کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

پاک آرمی زندہ باد، پاکستان پائندہ باد

Tuesday, May 5, 2020

Poor man and robbery instructional story

" *میں تم سے اور بچوں سے بے پناہ محبت کرتا ہوں، جانتا ہوں تم لوگ سخت حالات میں ہو، فاقے کاٹ رہے ہو، مگر میں یہاں بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتا. بس اتنا کر سکتا ہوں کہ کھانا پینا چھوڑ دوں تاکہ خود کو تمہارے ساتھ تو محسوس کروں ۔۔۔*" *یہ وہ خط تھا جس نے سینٹرل جیل کراچی کی انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا. خط لکھنے والا قیدی بھوک ہڑتال کر چکا تھا۔* *انتظامیہ کوشش کے باوجود بھوک ہڑتال ختم نہ کرا سکی تو اعلیٰ حکام کو مطلع کیا، جس کے بعد اس معاملے کی انکوائری ایک نوجوان پولیس افسر کے پاس آ گئی ۔۔*۔
*یہ قصہ پولیس افسر نے سنایا ۔۔۔ پولیس افسر کے مطابق ۔۔۔* *میں نے خط پڑھا تو بے چین ہو گیا۔ فائل اپنے گھر لے گیا اور وہ خط اپنی اہلیہ کو دکھایا تو وہ رونے لگی۔* *میں نے اس قیدی کی فائل پڑھی، وہ قیدی ڈکیتی کے الزام میں سزا بھگت رہا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جن کے گھر میں ڈکیتی ماری تھی انھوں نے مقدمہ کیا اور نہ تھانے آئے، سب کچھ سرکاری مدعیت میں ہوا اور ملزم کو سزا ہو گئی۔* *میں اگلے ہی روز ملیر میں اس قیدی کے گھر چلا گیا۔ اس کی اہلیہ اور تین بچے ملیر کھوکھرا پار میں ایک کمرے کے ٹین کی چھت والے گھر میں رہتے تھے۔ صحن ایک کونے میں چولہا رکھ کے کچن اور دوسرے کونے میں چادر کے پیچھے بالٹی اور اینٹیں رکھ کے واش روم اور ٹوائلٹ بنایا گیا تھا۔* *میں نے قیدی کی اہلیہ سے تفصیلات پوچھیں تو کہنے لگی کہ وہ گدھا گاڑی چلاتا تھا۔* *کراچی کے خراب حالات کے دوران فائرنگ سے اس کا گدھا مر گیا۔ وہ کئی دن تک مزدوری ڈھونڈتا رہا مگر اسے کام نہ ملا۔ ادھر بچے بھوک سے بلک رہے تھے، محلے والے مدد کر رہے تھے مگر کب تک ۔۔۔* *جب زیادہ تنگ ہوئے تو میں نے اسے کہا کہ کہیں سے بھی راشن لے کر آؤ ورنہ میں بچوں کو مار دوں گی۔ وہ خاموشی سے چلا گیا اور پھر شام کو اطلاع آئی کہ ڈکیتی مارتے ہوئے اسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ ڈکیت نہیں ہے، اسے میں نے ڈاکو بنا دیا۔ خاتون روتے ہوئے بتا رہی تھی۔* *اس گھر کی حالت خاتون کے بیان کی گواہی دے رہی تھی، میں وہاں سے نکل کے اس گھر میں گیا جس میں ڈکیتی ماری گئی تھی۔ انھوں نے جب تفصیلات بتائیں تو میرے ہوش اڑ گئے۔* *انھوں نے بتایا کہ دوپہر کے وقت گھر میں خواتین تھیں، وہ شخص پستول کے ساتھ گھر میں داخل ہوا، اور خواتین کو ایک جانب جمع ہونے کا کہا۔ بزرگ خاتون خانہ نے کہا کہ کسی کو کچھ مت کہنا، زیور اور رقم اس الماری میں ہے، وہ لے لو۔ مگر اس نے کہا مجھے رقم نہیں چاہئے، میں بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا، اس لئے شور مت مچانا اور مجھے صرف یہ بتائیں کہ کچن کس طرف ہے، خاتونِ خانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے حیرانی اور پریشانی سے اسے کچن بتایا۔ وہ شخص کچن میں گیا، ہم سے ایک چادر لی اور کچن میں موجود راشن چادر میں جمع کر کے روانہ ہو گیا۔ جاتے ہوئے ہم سے معذرت بھی کر کے گیا۔* *خاتونِ خانہ نے کہا کہ ہم تو حیران رہ گئے تھے، اور خاموش ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک باہر شور ہوا۔ ہم نے پتا کیا تو معلوم ہوا کسی محلے والے نے مشکوک حالت میں چادر میں سامان سمیٹے اس گھر سے نکلتے دیکھا تو شور مچا دیا، جس پر محلے والوں نے اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ خاتون خانہ اور اس گھر کے مردوں کا کہنا تھا کہ طریقہ واردات اور صرف راشن چوری کرنے سے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شخص ضرورت مند ہے، اس لئے ہم نے اس شخص کے خلاف تھانے گئے اور نہ مقدمہ کرایا*۔ *میں نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بلایا تو اس نے بتایا کہ محلے والے پکڑ کے لائے تھے، اس نے اعتراف بھی کیا کہ ڈاکہ مارا ہے اور اس کے پاس سے جو پستول برآمد ہوا وہ نقلی تھا۔* *مقدمہ کرانے کوئی نہیں آیا تھا تو ہم نے سرکاری مدعیت میں مقدمہ عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے سزا دے دی۔* *میں نے انکوائری رپورٹ تیار کی، ساتھ ہی اس گھرانے کے افراد کے بیان لگائے جن کے گھر ڈکیتی ہوئی تھی، اور تفصیل اعلیٰ حکام کو بھیج دی۔ مقدمہ عدالت میں دوبارہ چلا، اس شخص کو چند دن میں ہی ضمانت اور کچھ عرصے بعد رہائی مل گئی۔* *وہ شخص رہا ہوا تو میں نے اسے کہا کہ آئندہ ایسی حرکت مت کرنا، اور اسے کچھ رقم دینے کی کوشش کی تو اس نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ مجھے کہیں مزدوری دلوا دیں۔* *اب وہ شخص اپنے گھر کی قریبی پولیس چیک پوسٹ پر سویلین ملازم ہے۔* *یہ ہڑتالیں اور لاک ڈاؤن کتنے گھر اجاڑتے ہیں، کتنے گھروں میں فاقے کراتے ہیں اور کتنے ڈاکو پیدا کرتے ہیں؟ اس کا اندازہ بےحس حکمران لگا سکتے ہیں اور نہ ہمارا عدالتی نظام۔“* Dua Lateef PAKISTAN LAWYERS MOVEMENT

Saturday, February 15, 2020

Electric cars and oil price Urdu article

پیشں گوئی کی گئی ہے کہ اگلے آٹھ سال میں دنیا میں کہیں بھی کوئی نئی پٹرول یا ڈیزل کی موٹر گاڑیاں، بسیں، یا ٹرک فروخت نہیں کئے جائیں گے۔ (اس مضمون کو انگلش میں پڑھیے) پورے خطے کا نظام نقل و حمل برقی گاڑیوں پر منتقل ہو جائیگا نتیجتاً تیل کی قیمتوں میں شدید کمی پیٹرولیم کی صنعت کی تبا ہی کا باعث بنے گی ۔ساتھ ہی موٹر گاڑیاں اوربسیں بنانے کی وہ صنعتیں تباہ ہو جائیں گی جنہوں نے اس جدید صنعتی انقلاب کو ااختیار کرنے میں دیر کی ۔خام تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہوجائے گی. پٹرول اسٹیشنوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا اور لوگ ا پنی گاڑیوں کے مقابلے میں کرائے کی گاڑیوںپرسفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔. موٹرگاڑیاں بنیادی طور پر "بھاگتےہوئے کمپیوٹر" بن جائیں گی ۔ اسقدر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیا ں موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی بقا کیلئے خطرہ بن رہی ہیں کیونکہ انہیں اب
اس کمپنی کے مقابلے میں برقی گاڑیاں تیار کرنے پر توجہ دینی پڑےگی۔
پروفیسر شبا کی رپورٹ نے بین الاقوامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور تیل پیداواری ممالک میں شدید بے چینی کو جنم دیا ہے۔اس طرح تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک دوبارہ غربت کے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے جیسےوہ 1950 تک گھرے ہوئے تھے ۔ افسوس کہ وہ تاریخ سے سبق لینے میں بالکل ناکام ہیں۔ بجائے اس کے کہ کوریا، فن لینڈ اور د یگر ممالک کی طرح مضبوط علم پر مبنی معیشت قائم کرتے ، انہوں نےاپنی تمام دولت آرام و آسائش یا مغر ب سےحاصل شدہ ہتھیاروں کوخریدنے میں لٹا دی ہے۔ اسی دوڑ کی اہم ترین پیش رفت نئی قسم کی بیٹری ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑیاںطویل فاصلے طے کر سکتی ہیں او ر بیٹری کو با ر بار چارج نہیں کرنا پڑتا۔ گزشتہ ہفتے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب بیٹریوں کو دو منٹ میں چارج کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بیٹری کے اندر کا الیکٹرو لائٹ فوری طور پر تبدیل کرکے کیا جاتا ہے۔یعنی آئندہ پیٹرول اسٹیشن کی جگہ ایسے بیٹری اسٹیشن قائم ہو جائینگے جہاں پیٹرول ڈلوانے کے بجائے آپ بیٹری کے پانی کو تبدیل کیا کریں گے ان کو ’فلو بیٹریز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ طریقہ جامعہ پرڈیوکے پروفیسر نے ایجاد کیا ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمت کا تقریبا 40 فیصد بیٹریوں پر مشتمل ہے لہٰذا اب کم قیمت اور زیادہ طاقتور بیٹریاں بنانے پر زور دیا جا رہاہے۔بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق ان بیٹر یو ں سےبجلی کی پیداوار فی کلو واٹ گھنٹے کی قیمت 2012 میں 542 ڈالرسے کم ہوکر اب صرف 139 ڈالر ہو گئی ہے اور 2020تک 100ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچنےکی امید ہے۔ برقی موٹرگاڑیاں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کی حامل ہوتی ہیں جو سینکڑوںکلومیٹر کا فاصلہ منٹوں میں طے کرسکتی ہیں اور بیٹری ایک ہی چارج میں تقریبا 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمتیں کا فی تیزی سے کم ہو رہی ہیں --
2022 تک سب سے کم قیمت برقی موٹر گاڑی کی قیمت 20,000امریکی ڈالر تک ہو جائیگی ۔اس کے بعد پیٹرول کی گا ڑیا ں جلد ہی نا پید ہو جائیں گی۔پروفیسر شبا کی ایک اور پیشں گو ئی کے مطا بق 2025 تک تمام نئی چار پہیوں پر چلتی گاڑیاں عالمی سطح پر بجلی سے چلیں گی چین اور بھارت جدت کی اس نئی لہر کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ 2032 تک تمام پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیاں ختم کر دی جائیں۔ بھارت میں فوسل تیل سےچلنے والی گاڑیو ں اور تمام پٹرول اور ڈیزل کاروں پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کا عمل تیز کیا جارہا ہے۔ چین2025 تک 70 لاکھ برقی گاڑیوں کی سالانہ پیدا وارکا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس وقت ہم تاریخ کے اس باب کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو جدت طرازی کی بہت بڑی تاریخی مثال ثابت ہوگاکہ کس طرح جدت طرازی کے ذریعے موٹر گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم صنعتوں پر زوال آیا او ر کس طرح بہت سی قومی معیشتیں تباہ ہوئیں۔
ڈاکٹر عطاء الرحمٰن